کونو کارپس فوائد و نقصانات

  تعارف اور پہچان


کونو کارپس (Conocarpus erectus) ایک سدا بہار جھاڑی یا چھوٹا سے درمیانے سائز کا درخت ہے جس کا تعلق کومبریٹیسی (Combretaceae) خاندان سے ہے۔ یہ اپنی تیزی سے بڑھنے کی صلاحیت اور سخت جان ہونے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یا

کونو کارپس ایک پودے کی قسم ہے جو دراصل شمالی کیریبین کوسٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے "بٹن ووڈ" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک تیزی سے بڑھنے والا درخت ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں پایا جاتا ہے۔ جس میں افریقہ ایشیا اور امریکہ شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی اسے بڑے پیمانے پر لگایا گیا ہے۔اور لگایا جا رہا ہے ۔ تا کہ ہریالی زیادہ ہو سکے ۔


جغرافیائی تقسیم اور رہائش

کونو کارپس بنیادی طور پر شمالی کیریبین کوسٹ، فلوریڈا۔ برمودا۔ وسطی اور جنوبی امریکہ کے ساحلی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ اکثر دلدلی علاقوں میں جنگلات کے کنارے اور ساحلی ریتلے میدانوں میں اُگتا ہے۔ نمکین اور شور زدہ مٹی کو برداشت کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسے ساحلی علاقوں میں لگانا بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔


ظاہری خصوصیات

قد: یہ عام طور پر 5 سے 10 میٹر (16 سے 33 فٹ) اونچا ہوتا ہے۔لیکن سازگار حالات میں 20 میٹر (66 فٹ) تک بھی پہنچ سکتا ہے۔


پتے: اس کے پتے چھوٹے بیضوی شکل کے اور چمکدار سبز ہوتے ہیں۔ پتے ایک دوسرے کے مخالف ترتیب میں لگے ہوتے ہیں۔



پھول: کونو کارپس کے پھول چھوٹے سبز مائل اور گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ یہ پولن (زر گل) پیدا کرتے ہیں جو ہوا کے ذریعے پھیلتے ہیں۔


پھل: اس کا پھل ایک چھوٹا گول اور لکڑی نما ہوتا ہے۔جو بٹن کی طرح لگتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے "بٹن ووڈ" بھی کہتے ہیں۔ یہ پھل جب پک جاتا ہے تو بھورا ہو جاتا ہے اور اس میں چھوٹے بیج ہوتے ہیں۔


چھال: اس کے تنے کی چھال بھوری اور کھردری ہوتی ہے۔


بڑھنے کا انداز اور استعمال:

کونو کارپس کو عام طور پر حفاظتی باڑ کے طور پر ہوا کی رفتار کو کم کرنے والے درختوں (Windbreaks) کے طور پر اور شہروں میں سڑکوں کے کناروں پر خوبصورتی کے لیے لگایا جاتا ہے۔ یہ کٹائی کو اچھی طرح برداشت کرتا ہے اور اسے مختلف اشکال دی جا سکتی ہیں۔ اس کی لکڑی مضبوط ہوتی ہے اور اسے جلانے کے لیے یا چھوٹے فرنیچر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔





کونو کارپس  کے فوائد:

تیزی سے نشوونما: کونو کارپس بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کم وقت میں ہریالی فراہم کرتا ہے۔

کم پانی کی ضرورت: ایک بار جب یہ درخت اچھی طرح سے بڑھ جائے تو اسے کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اسے خشک اور شور زدہ علاقوں کے لیے موزوں بناتا ہے۔

آسانی سے تراشا جانا: اسے آسانی سے تراشا جا سکتا ہے اور مختلف اشکال دی جا سکتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ سڑکوں کے کنارے۔ باغات اور سجاوٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنا اور آکسیجن خارج کرنا: دیگر پودوں کی طرح کونو کارپس بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور آکسیجن خارج کرتا ہے۔ لیکن باقی پودوں سے کم ۔۔۔ جو ماحول کے لیے فائدہ مند ہے۔

ٹننز (Tannins) کی موجودگی: اس کے پتوں اور چھال میں ٹننز ہوتے ہیں جو رنگنے اور بعض طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

جانوروں کی خوراک: کونو کارپس کے پتوں کو جانور نہیں کھاتے جس کی وجہ سے یہ درخت جلد گروتھ کرتا ہے ۔


نقصانات

پولن الرجی: کونو کارپس کے پولن (زر گل) سے الرجی ہو سکتی ہے۔جس سے خاص طور پر ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں دمہ اور دیگر سانس کی بیماریاں بڑھ سکتی ہیں۔ پاکستان کے کچھ شہروں میں اس وجہ سے اس پر پابندی بھی لگائی گئی ہے۔ اس میں مختلف ماہرین کی مختلف رائے ہے ۔ کچھ کے نزدیک یہ الرجی پیدا نہیں کرتا اور زیادہ کے نزدیک یہ الرجی پیدا کرتا ہے ۔ 

زمین کا پانی کم کرنا: یہ درخت زمین سے بہت زیادہ پانی جذب کرتا ہے- جس سے زیر زمین پانی کی سطح مزید کم ہو سکتی ہے۔ اس لحاظ سے اسے سفیدہ (Eucalyptus) کی طرح ہی نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

بنیادی ڈھانچے کو نقصان: اس کی جڑیں مضبوط اور وسیع ہوتی ہیں جو سڑکوں پائپ لائنوں اور عمارتوں کی بنیادوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

مقامی پرندوں اور کیڑوں کے لیے غیر موزوں: کونو کارپس مقامی پرندوں شہد کی مکھیوں اور دیگر کیڑوں کو خوراک یا رہائش فراہم نہیں کرتا جس سے مقامی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

بارش کے نظام پر اثر: کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کونو کارپس بادلوں اور بارش کے نظام پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ حالانکہ اس پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

دیگر پودوں کی نشوونما پر اثر: اس کی موجودگی دوسرے مقامی درختوں اور پودوں کی افزائش کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پرکونو کارپس کو ہریالی کے لیے تیزی سے اگنے والا ایک موزوں درخت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے منفی ماحولیاتی اور صحت پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے پاکستان کے کئی شہروں میں اس کی شجرکاری پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

پاکستان میں کونو کارپس:

پاکستان میں اسے خاص طور پر کراچی اور دیگر شہروں میں تیزی سے ہریالی بڑھانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کی تیزی سے بڑھنے اور کم پانی کی ضرورت کی وجہ سے اسے ایک مثالی درخت سمجھا گیا تھا۔  لیکن بعد میں اس کے پولن سے ہونے والی الرجی اور زیر زمین پانی کی سطح پر پڑنے والے منفی اثرات کی وجہ سے اس کی شجرکاری پر سوالات اٹھائے گئے۔

پاکستان میں کونو کارپس کا مستقبل:

پاکستان میں کونو کارپس کا مستقبل خاصا غیر یقینی اور تنازعات کا شکار ہے۔ ماضی میں اسے ہریالی بڑھانے کے لیے ایک بہترین انتخاب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب اس کے ماحولیاتی اور صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کی وجہ سے اس کی شجرکاری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کئی شہروں میں اس پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے۔

موجودہ صورتحال:

پابندیاں اور مخالفت: کراچی سمیت کئی شہروں میں کونو کارپس پر پابندی لگائی گئی ہے یا اسے لگانے کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین اور شہری تنظیمیں اس کے پولن سے ہونے والی الرجی اور زیر زمین پانی کی سطح میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتی ہیں۔

عوامی شعور: لوگوں میں کونو کارپس کے نقصانات کے بارے میں شعور بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر الرجی کے کیسز میں اضافے کے بعد۔

متبادل کی تلاش: حکومت اور ماحولیاتی تنظیمیوں کو  اب کونو کارپس کے متبادل کے طور پر مقامی اور ماحول دوست درختوں کی شجرکاری پر زور دینا چاہیئے۔جیسے کہ نیم۔گل مہر۔ بادام۔ بڑ گد ۔ پیپل۔ املتاس۔کچنار۔ وغیرہ

مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے؟

پابندیوں کا تسلسل: امکان ہے کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی کونو کارپس کی شجرکاری پر پابندیاں مزید سخت ہو سکتی ہیں۔

موجودہ درختوں کا انتظام: جو کونو کارپس کے درخت پہلے سے موجود ہیں۔ان کو ہٹانا ایک بہت بڑا اور مہنگا کام ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان کو کاٹنے کی بجائےنئے مقامی درخت لگانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ایک متوازن ماحولیاتی نظام بنایا جا سکے۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ الرجی کے حوالے سے زیادہ مضر صحت نہیں ہے۔ لیکن اکثریت اس سے متفق نہیں۔

مقامی درختوں کی شجرکاری پر زور: مستقبل کی شجرکاری مہمات میں مقامی درختوں کو ترجیح دی جانی چاہیئے  جو پاکستان کے ماحول کے لیے موزوں ہوں۔پانی کی کم ضرورت رکھتے ہوں اور مقامی حیات (پرندے، کیڑے مکوڑے) کے لیے فائدہ مند ہوں۔

تحقیق اور آگاہی: کونو کارپس اور دیگر غیر مقامی پودوں کے ماحولیاتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں درست معلومات اور آگاہی پھیلانا بھی ضروری ہے۔

متوازن نقطہ نظر: کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کونو کارپس بنجر اور شوریدہ علاقوں کے لیے اب بھی کارآمد ہو سکتا ہے جہاں دوسرے درختوں کا اگنا مشکل ہو۔ ایسے علاقوں میں اس کی شجرکاری کی اجازت دی جا سکتی ہے لیکن شہروں اور آبادی والے علاقوں میں اسے محدود کیا جانا چاہیے۔

خلاصہ:

پاکستان میں کونو کارپس کا مستقبل اب ہریالی کے منصوبوں میں مرکزی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے نقصانات کے پیش نظر یہ امکان نہیں کہ اسے وسیع پیمانے پر دوبارہ لگایا جائے ۔ اس کی جگہ اب مقامی ماحول دوست اور صحت کے لیے غیر مضر درختوں کو ترجیح دی جائے ۔تاکہ پاکستان کا ماحولیاتی نظام متوازن اور صحت مند رہ سکے۔

ہارویسٹ ہوریزن کی معلومات اور ریسرچ کے مطابق  کونو کارپس کو اکیلا نہیں لگانا چاہئے ۔ بلکہ اس کے ساتھ دوسرے درخت بھی لگانا چاہئے ۔ جیسا کہ ایک کونوکارپس  ۔ ایک املتاس یا کچنار  ایک پودا نیم پھر ایک پودا کونو کارپس اور پھر اسی ترتیب سے تمام پودے ۔۔۔۔۔۔

کونو کارپس +   املتاس  +  نیم   +  کونو کارپس

اس پر بہت کم پرندوں کو بیٹھا ہو ا دیکھا گیا ہے ۔

اس کی جڑیں پانی کی تلاش کے لئے 50 فٹ سے بھی زیادہ سفر کر سکتی ہیں ۔ وہ پانی کسی بھی جگہ ہو ۔ کسی گھر میں یا کسی پانی کی سپلائی لائن میں ۔ اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ اسے شہری آبادی یا گھروں سے دور میکس لگایا جائے ۔

غلام یٰسین آرائیں ۔ہارویسٹ ہوریزن کہروڑ پکا

 

7 Comments

Thanks for visit

  1. MashaALLAH behtreen post

    ReplyDelete
  2. Kamal Muhtram , Asan ardo main aisi malomat kabhi naheen dykhin . Allah Ap kay elm mn azafa fermay Ameen

    ReplyDelete
  3. Bahut he Behtreen Post hay janab

    ReplyDelete
  4. میں آپ کے محنت اور کاوش کو سلام پیش کرتی ہوں ۔ میں نے بہت سی جگہوں میں ایسا کچھ نہیں پڑھا ۔جو آپ نے مکمل تفصیل سے اس پوسٹ میں لکھا ہے ۔ایک ایک بات سمجھائی ہے ۔ بہت پسند آئی ہے آپ کی پوسٹ ۔۔۔ شکریہ

    ReplyDelete
  5. Good Post sir

    ReplyDelete
  6. Kamal ki malomati post Hay janab Thanks

    ReplyDelete
Previous Post Next Post